راولپنڈی - کراچی

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

Fiqh aur Usool e Fiqh ki Tadrees By Mufti Mukarram Muhiuddin Hussami فقہ اور اصول فقہ کی تدریس

Fiqh aur Usool e Fiqh ki Tadrees By Mufti Mukarram Muhiuddin Hussami فقہ اور اصول فقہ کی تدریس از مفتی محمد مکرم محی الدین صاحب حسامی قاسمی

Read Online

Download (3MB)

Link 1      Link 2

فقہ اور اصول فقہ کی تدریس
درس نظامی میں شامل کتب فقہ و اصول فقہ پڑھانے کا طریقہ کار مع عام اصول تدریس

تالیف: مفتی محمد مکرم محی الدین صاحب حسامی قاسمی استاذ حدیث و فقہ دار العلوم حیدرآباد
صفحات: 121
اشاعت: 1446 / 2025ء

تعارف
پہلا باب عام اصول تدریس، جس میں درس کی تیاری اور درس دینے کے گر بتائے گئے ہیں۔
دوسرا باب کتب فقہ کی تدریس پر مشتمل ہے ، اس میں بہشتی زیور ، مالا بدمنہ ، نور الايضاح ، قدوری ، کنز الدقائق ، شرح وقایہ اور ہدایہ و در مختار جو درس نظامی میں داخل درس ہیں ، ان کا مختصر تعارف کے ساتھ ان کی تدریس کا طریقہ بتایا گیا ہے، ساتھ ہی ساتھ ان کے شروح و حواشی کا بھی ضمناً تعارف پیش کر دیا گیا ہے۔
تیسرا باب کتب اصول فقہ کی تدریس کا طریقہ کار پر مشتمل ہے، اس میں اصول الشاشی ، نور الانوار اور حسامی کا تعارف پیش کرنے کے ساتھ ان کی تدریس کے طریقہ کار کی تفصیل کا ذکر ہے اور ان کے شروح و حواشی کا بھی ذکر ہے۔
چوتھا باب فقہ اور اصول فقہ کا نصاب چند گذارشات کے عنوان پر ہے، جس میں پہلے دونوں فنون سے متعلق جو کتابیں درس نظامی میں داخل درس ہیں ان پر ایک جامع تبصرہ ہے، پھر نصاب سے متعلق قابل قدر اور نہایت متوازن مشورہ بھی دیا گیا ہے، اس کے بعد شعبہ افتاء کے نصاب کا ذکر ہے اور اس تعلق سے بھی قیمتی مشورے ذکر کیے گئے ہیں۔
پانچواں باب مؤلف کے اساتذہ کرام کے ذکر پر مشتمل ہے، اس میں مؤلف نے اپنے ابتدائی درجے کے استاد سے لے کر انتہائی درجے کے تمام اساتذہ کرام کا ذکر کیا ہے، اور کن سے کون کون سی کتابیں پڑھی ہیں ان سب کا بھی ذکر کیا ہے، اور سب سے آخر میں مؤلف نے اپنا تعارف اور اپنی تحریر کردہ کتابوں کا تعارف پیش کیا ہے۔

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *