امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

راولپنڈی - کراچی

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

Hazrat Syed Ahmad Shaheed ka Hajj By Maulana Syed Jafar Ali Naqvi حضرت سید احمد شہید کا حج

Read Online

Hazrat Syed Ahmad Shaheed ka Hajj By Maulana Syed Jafar Ali Naqvi حضرت سید احمد شہید کا حج

Download (3MB)

Link 1      Link 2

حضرت سید احمد شہید کا حج اور اس کے اثرات
تصنیف: مولانا سید جعفر علی نقوی بستوی
ترجمہ: مولانا عبید الله الاسعدی
صفحات:۲۰۱
اشاعت: نومبر ۲۰۱۲ء – محرم الحرام ۱۴۳۴ھ ه
ناشر: سید احمد شہید اکیڈمی رائے بریلی

امیر المؤمنین سید المجاہدین حضرت سید احمد شہید کی حیات اور ان کے تجدیدی کاموں پر حضرت کی شہادت کے بعد ہی سے بہت کچھ لکھا گیا لیکن ان میں دو کتابیں ہیں جن کو دستاویزی حیثیت حاصل ہوئی ، پہلی کتاب وہ ہے جو نواب وزیر الدولہ مرحوم نے حضرت کی شہادت کے بعد ہی حضرت کے وہ رفقاء و خدام جو رہ گئے تھے ان کو بیٹھا کر لکھوائی ، جس کو جو یاد تھا وہ بیان کرتا جاتا تھا اور دوسرے حضرات جب اس کی تائید کرتے تو وہ واقعہ لکھا جاتا ، اس طرح یہ کتاب ” وقائع احمدی” کے نام سے پانچ جلدوں میں مرتب ہوئی اور بعد میں جو بھی کام سید صاحب پر ہوئے ان میں اس کتاب کو اہم ترین مرجع کی حیثیت حاصل ہوئی۔
اس سلسلہ کی دوسری اہم ترین کتاب جو سب کا مرجع بني “منظورة السعداء باحوال الغزاة و الشهداء” ہے۔ یہ کتاب حضرت سید صاحب کی جماعت کے میر منشی حضرت مولانا جعفر علی صاحب نقوی نے حضرت کی شہادت کے بعد دو ضخیم جلدوں میں مرتب کی، یہ کتاب شروع میں شائع بھی ہوئی لیکن فارسی زبان میں ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتی چلی گئی، اور آج وہ صرف چند کتب خانوں کی زینت ہے، اور تلاش بسیار کے باوجود اس کے کچھ اجزاء ابھی تک نہیں مل سکے ہیں ۔
سالوں پہلے اس خاندان کے ایک نوجوان عالم دین نے جو اب بزرگوں میں شامل ہیں اس کتاب کے ترجمے کا بیڑا اٹھایا تھا، اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے کام بھی خاصا کر لیا مگر اس کے بعض اجزاء کے نہ ملنے کی وجہ سے ابھی تک وہ کام تکمیل کو نہیں پہنچ سکا ، راقم کو خیال ہوا کہ جب تک پوری کتاب مکمل نہیں ہو جاتی اس کے مفید اجزاء الگ الگ کرکے اگر شائع کر دیے جائیں تو وہ بھی فائدہ سے خالی نہیں، راقم نے اس کے لیے محترم مترجم مولانا عبید اللہ اسعدی صاحب سے درخواست کی کہ سفر حج والا حصہ وہ اشاعت کے لیے سید احمد شہیدا کیڈمی کے حوالہ کر دیں تو اشاعت کا سلسلہ شروع کر دیا جائے ، مولانا محترم نے بخوشی یہ درخواست قبول فرمائی اور اب اس اہم کتاب کا وہ حصہ جو حضرت سید صاحب کے سفرحج کی روداد کے طور پر لکھا گیا ہے ناظرین کے سامنے ہے، راقم ناشر کی حیثیت سے مترجم کا بھی مشکور ہے اور اس کی اشاعت میں مدد کرنے والوں کے لیے بھی دعا گو ہے۔۔۔۔ ناشر

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *