امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

Misali Aurat By Maulana Zulfiqar Ahmad Naqshbandi مثالی عورت

Read Online

Misali Aurat By Maulana Zulfiqar Ahmad Naqshbandi مثالی عورت

Download (4MB)

Link 1      Link 2

مثالی عورت
صنف نازک کی اصلاح پر بے مثل بیانات کا مجموعہ

افادات: حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی
صفحات: ۱۹۴
اشاعت اول فروری 2017 ء
ناشر: مکتبۃ الفقیر فیصل آباد

پیش لفظ
اسلام نے اپنے پیروکاروں کو رہبانیت کی تعلیم نہیں دی، یعنی ان کو وصل باری تعالٰی کے حصول کے لیے مخلوق خدا سے بالکل منقطع ہو کر جنگلوں اور غاروں میں زندگی گزارنا نہیں سکھایا، بلکہ اس کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ تم انہی گلی کوچوں اور بازاروں میں رہتے ہوئے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی اہتمام کرلو تو تم اپنے رب کو پالوگے۔
دیکھیے ! اللہ رب العزت نے انسانوں کے مابین مختلف رشتے بنائے ہیں : بعض رشتے خون کی وجہ سے ہوتے ہیں، مثلاً ماں اور بیٹی کا رشتہ، بہن اور بھائی کا رشتہ بعض رشتے ازدواجی زندگی کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں، مثلاً بیوی اور خاوند کا رشتہ ، ساس اور بہو کا رشتہ اور ایک رشتہ علم کی وجہ سے بھی ہوتا ہے، چنانچہ اس رشتے میں منسلک خواتین کو معلمہ اور طالبہ کہا جاتا ہے۔ بنی نوع انسان میں سے ہر شخص مذکورہ بالا رشتوں میں سے کسی نہ کسی رشتے سے ضرور منسلک ہوتا ہے۔ ان رشتہ داروں کے کچھ حقوق انسان پر عائد ہوتے ہیں، وہ حقوق العباد کہلاتے ہیں۔
سب سے پہلے ہے ماں اور بیٹی کا رشتہ ۔ شریعت مطہرہ نے ماں اور بیٹی میں سے ہر ایک کے حقوق دوسرے پر لازم کیے ہیں ۔ پھر ایک ماں کی اولاد ہونے کی حیثیت سے بہن بھائیوں کے بھی ایک دوسرے پر حقوق آتے ہیں۔
ازدواجی زندگی کے نتیجے میں جو رشتے وجود میں آتے ہیں، ان میں سے ایک رشتہ بیوی اور خاوند کا ہے، شریعت نے بیوی پر خاوند کے کچھ حقوق لازم کیے ہیں۔ دوسرا رشتہ ساس اور بہو کا ہے، جس طرح ساس کو شریعت نے ماں کا رتبہ دیا ہے اسی طرح بہو کو بھی بیٹی کی مانند قرار دیا ہے اور ساس پر اس کے بھی چند حقوق عائد کیے ہیں۔
تعلیم و تعلم کا رشتہ بھی بہت سارے حقوق کا متقاضی ہے۔ طالبہ پر معلمہ کے اور معلمہ پر طالبہ کے حقوق بھی شریعت نے متعین فرمائے ہیں۔
مندرجہ بالا مختلف رشتوں کے حوالے سے ہماری بہت ساری ذمہ داریاں ہیں، ان رشتوں کی نزاکتیں ہیں ، ان کو نبھانے اور پائیدار بنانے کے بہت سے اصول ہیں، زیر نظر کتاب 2015 ء زیمبیا میں منعقدہ اعتکاف کے دوران کیے گئے حضرت جی کے بیانات کا مجموعہ ہے جس میں یہ تمام حقوق مکمل تفصیل کے ساتھ، نصوص قرآنی، سنت نبوی ﷺ سے ماخوذ نکات، خوبصورت مثالوں، دلچسپ واقعات اور سائنسی تجربات کی روشنی میں عام فہم اور دلچسپ پیرائے میں بیان کر دیے گئے ہیں۔۔۔۔ فقیر سیف اللہ احمد نقشبندی مجددی

Misali Mard By Maulana Zulfiqar Ahmad Naqshbandi مثالی مرد

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *