امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

راولپنڈی - کراچی

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

Qurbani kay Ayyam o Auqaat By IFA India قربانی کے ایام و اوقات

Read Online

Qurbani kay Ayyam o Auqaat By IFA India قربانی کے ایام و اوقات

Download (5MB)

Link 1       Link 2

قربانی کے ایام و اوقات
اگر کوئی شخص ایسے دور دراز علاقہ میں اپنی قربانی کرائے، جہاں وقت کا کافی فرق پایا جاتا ہو تو قربانی کے ایام و اوقات میں قربانی کرنے والے کی جگہ کا اعتبار ہوگا یا اس جگہ کا جہاں قربانی کی جارہی ہے؟ اس اہم موضوع پر اکیڈمی کے 19 ویں فقہی سمینار میں پیش کئے گئے تفصیلی مقالات و مباحث کا مجموعہ

صفحات: ۳۳۹
طبع : فروری 2011
ناشر: ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی

اس سمینار میں درج ذیل تجاویز پاس کی گئیں :
جو شخص قربانی کا وکیل بنا رہا ہے وہ الگ مقام پر ہو اور جہاں قربانی کی جارہی ہے ہو وہ الگ مقام ہو تو اوقات قربانی کی ابتداء وانتہا کے سلسلہ میں مقام قربانی کا اعتبار ہوگا بشرطیکہ جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، اس پر ۱۰ ذی الحجہ کی صبح صادق طلوع ہوگئی ہو ؛ لہذا :
الف: جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے اگر اس کے یہاں ۱۰ ذی الحجہ شروع نہیں ہوئی تو اس کی طرف سے قربانی نہیں کی جاسکتی، اگرچہ قربانی کئے جانے کے مقام پر اس دن ۱۰ ذی الحجہ ہو ۔
ب: جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے اگر اس کے یہاں ۱۲ ذی الحجہ کا غروب آفتاب ہو چکا ہے؛ لیکن جہاں قربانی ہو رہی ہے وہاں ابھی ۱۲  ذی الحجہ باقی ہے تو اس کی جانب سے قربانی کرنا درست ہے۔
ج: جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے اس کے مقام پر ۱۲  ذی الحجہ کی تاریخ ہے اور جہاں قربانی کی جارہی ہے وہاں ۱۲ ذی الحجہ گزر چکی ہے تو اب وہاں قربانی کرنا درست نہیں ہے۔
شق الف میں درج ذیل حضرات کا اختلاف ہے: مفتی رشید احمد فریدی، مفتی عبد الودود مظاہری، مفتی جمیل احمد نذیری، مفتی محمد عثمان گورینی، مولانا عبد الرب اعظمی ، مفتی شوکت ثناء قاسمی ، مفتی نعمت اللہ قاسمی ، مولانا محمد کامل قاسمی اور مولانا احتشام الحق ۔ ان حضرات کے نزدیک مذکورہ صورت میں قربانی درست ہے۔ البتہ ان میں سے بعض حضرات کے نزدیک احتیاط اس میں ہے کہ اس صورت میں قربانی نہ کی جائے۔
شق ب میں مفتی سلمان پالنپوری صاحب کا اختلاف ہے، ان کے نزدیک مذکورہ صورت میں قربانی درست نہیں ہے۔

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *