Taraduf Al Alfaz fil Quran By Maulana Abdus Sattar Al Qasmi ترادف الالفاظ فی القرآن

 

Read Online

Taraduf Al Alfaz fil Quran By Maulana Abdus Sattar Al Qasmi ترادف الالفاظ فی القرآن

Download (5MB)

Link 1      Link 2

ترادف الالفاظ فى القران

مرتب: مولانا عبد الستار القاسمى

قرآن کریم اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے جو رہتی دنیا تک انسان کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معجزات دیئے گئے ہیں انہی میں سے ایک عظیم معجزہ قرآن کریم بھی ہے۔ بلکہ قرآن نے خود دعوی کیا ہے کہ اس جیسا کلام چاہے وہ لغوی اعتبار سے ہو، چاہے ترکیبی اعتبار سے، چاہے معنوی اعتبار سے، چاہے حقائق و واقعات کے اعتبار سے، کوئی پیش نہیں کر سکتا؟ کیوں کہ وہ خالق و مالک اللہ رب العزت کی جانب سے ہے، اور چودہ سو سالہ تاریخ اس بات پر شاہد عدل ہے کہ قرآن کی اس تحدی اور چیلنج کا کوئی جواب اب تک نہیں دیا جا سکا اور نہ آئندہ دیا جا سکے گا۔ عصر حاضر میں “الفرقان الحق” کے نام سے ایک امریکی قرآن طبع ہو کر آیا جس میں چیلنج قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ، مگر جب اسے دیکھا گیا تو انتہائی فحش اغلاط سے بھرا پڑا نظر آیا، نہ اس کے الفاظ میں کوئی جاذبیت، نہ ترتیب میں اور نہ کوئی جامع مانع بات اس میں موجود، بلکہ عربی زبان کے موٹے موٹے قواعد کی بھی رعایت نہیں کی جاسکی ہے۔
قرآن کریم کے مترادفات بھی اعجاز کے حامل ہیں، قرونِ اولیٰ ہی سے علماء نے اس پر خامہ فرسائی شروع کر دی تھی اور تفاسیر قرآنیہ میں اس کا لحاظ بھی کیا گیا ہے تخصص کے اس دور میں عربی زبان میں اس پر مستقل تصنیفات منظر عام پر آچکی ہے۔
فروق اللغویہ ویسے تو ہر زبان میں پائے جاتے ہیں مگر جس وافر مقدار میں عربی زبان میں پائے جاتے ہیں اتنی مقدار میں کسی بھی زبان میں نہیں پائے جاتے اور یہ بات دعوی کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کیونکہ کثرت الفاظ کے اعتبار سے دنیا کی سب سے وسیع زبان عربی ہے ، عربی زبان لسان حال سے یہ شعر گنگنا رہی ہے۔
وَسِعْتُ كِتَابَ اللهِ لَفُظاً و غَايَةً۔۔۔ وَمَا ضِقْتُ عَنْ آی بِهِ وَ عِظَات
فَكَيْفَ أَضِيقُ اليَومَ عَنْ وَصْفِ آلةٍ۔۔۔ وتَنْسِيقِ أَسْمَاءِ لِمُخْتَرَعَاتٍ
أنا البَحْرُ فِي أَحْشَائِه الدرُ كَامِنٌ۔۔۔ فَهَلْ سَأَلُوا الغَوَاصَ عَنْ صَدَفَاتِي
بہر حال عربی زبان میں ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہوتے ہیں اور ایک ایک معنی کے کئی کئی الفاظ ہوتے ہیں جیسے عین آنکھ، چشمہ ، سورج کی ٹکیہ شئی وغیرہ جیسے بے شمار معانی کے لئے مستعمل ہے اسی طرح تلوار کے عربی زبان میں تقریباً تین سو اسماء ہیں گھوڑے کے ایک ہزار، مگر ہر ہر لفظ میں کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے، اور تکلم و تخاطب کے دوران اس کا مکمل لحاظ ضروری ہوتا ہے کہ کس لفظ کو کہاں اور کس موقع پر استعمال کرنا ہے، یہ عربی زبان میں بہت ہی اہم ہوتا ہے، قرآن کریم نے استعمال الفاظ کی ایسی زبردست رعایت کی کہ بعض بلغاء قحطان و فصحاء عرب نے اعجاز قرآنی کا محور صرف الفاظ کو قراردیدیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ قرآن ہر ناحیت اور ہر جہت سے سراپا اعجاز ہے، ہر وہ شخص جو عربی زبان کا ذوق رکھتا ہو تو جب بھی وہ قرآن کے مترادفات اور فروق پر غور کرے گا تو اس سے ایمان میں تازگی پیدا ہو جائے گی ، اور قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر عین الیقین کی سی کیفیت محسوس کرے گا اور یہ پکار اٹھے گا کہ انسان کے بس میں اتنے دقیق و عمیق فروق کی رعایت ممکن ہی نہیں، لہذا ناکارہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ جس طرح ان فروق پر واقفیت سے عاجز فقیر کو بے حد فائدہ محسوس ہوا، ہمارے طلبہ و علماء کو بھی اس سے واقف ہونا چاہئے تاکہ ایمان میں تازگی اور پرفتن دور میں قرآن سے شغف پیدا ہو لہذا میں طلبہ و علماء سے دردمندانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ لوگ اس جانب بھی توجہ دیں۔
اس سلسلہ میں پاکستان کے ایک معروف و مشہور عالم دین عبدالرحمن کیلانی نے اردو زبان میں بڑا اچھا کام کیا اور مترادفات القرآن کے نام سے ایک مجموعہ تیار کیا جو واقعی قابل ستائش ہے، مگر ضخامت اور ترتیب کے اعتبار سے افادیت میں محل معلوم ہورہا تھا، خاص طور پر ترتیب میں بڑی پیچیدگی ہوئی، بندہ ناکارہ تقریبا سات سال سے ترجمہ قرآن پارہ ۱-۱۰ کی تدریس میں مشغول ہے، الفروق اللغویة“ سے قدرے مناسبت ہونے کی وجہ سے اہتمام سے مترادفات القرآن کو دیکھتا ہے، مگر اس کی ترتیب اردو کے اعتبار سے ہونے کی وجہ سے جستجو میں کافی وقت لگتا تھا، تو ارادہ کیا کہ اصل چیز یعنی جو اس کا ماحصل ہے اسے اگر عربی ترتیب کا لحاظ کرکے الگ سے شائع کیا جائے ، تو طلبہ و علماء کے لیے نفع عام کا باعث ہو، ضخامت بھی کم ہو جائیگی اور عربی ترتیب کی وجہ سے جستجو میں بھی سہولت ہوگی ۔
ایک موقع پر جامعہ کے موقر استاذ مولانا عبد الستار صاحب اعظمی سے بندے نے درخواست کی کہ میں نے تعطیلات میں پوری کتاب کے ماحصل کو جامعہ کے کمپیوٹر لیب میں کمپیوز کروالیا ہے، البتہ اس کی عربی ترتیب اور پروف ریڈنگ کا کام باقی ہے، اگر آپ اس بار کو اٹھا لیں تو زه قسمت اور تعاون علی البر کی شکل بھی پیدا ہو جائے گی۔ موصوف نے بڑی خوشی سے درخواست کو قبول کیا۔ ماشاء اللہ بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے کام انجام دیا۔ میں تہہ دل سے ان کا شکر گزار ہوں ، موصوف کی محنت کا ثمرہ آپ کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالی کتاب کو نفع عام کا باعث بنا ئیں اور ہم سب کو موت تک علمی و عملی ہر اعتبار سے قرآن کریم سے وابستہ رکھیں، اور قرآن ہی کو ہمارے لئے آخرت کی نجات کا ذریعہ بنائیں اور اپنے دربار میں شرف قبولیت عطا فرما کر اپنی رضا نصیب فرمائیں آمین ۔

مولانا] محمد حذیفہ [صاحب] وستانوی جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا]

 

 

آپ کی رائے یا تبصرہ