امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

راولپنڈی - کراچی

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

Ujrat e Tarawih ka Shari Hukam By Maulana Muhammad Khalid Hanafi اجرت تراویح کا شرعی حکم

Ujrat e Tarawih ka Shari Hukam - اجرت تراویح کا شرعی حکم

Read Online

Download (1MB)

Link 1       Link 2

اجرت تراویح کا شرعی حکم

مرتب: مولا نا محمد خالد حنفی
صفحات : ۸۰
ناشر: گواڑخ پبلی کیشن کوئٹہ

 بعض اہل علم حضرات اپنے بیانات میں حفاظ کرام کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ تراویح میں قرآن سناؤ اور اس کے ذریعے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ پیسے وصول کرو۔ حالانکہ اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: “و تعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان. واتقوا الله ان الله شديد العقاب ” . (المائدة (٢) ۔
طاعات پر اجرت لینے کے بارے میں ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے درمیان اختلاف ہے، سراج الائمہ امام المجتہدین امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا مسلک یہ ہے کہ طاعات پر اجرت لینا نا جائز ہے لیکن متآخرین مشائخ حنفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے اندیشہ ضیاع دین کی بناء پر بعض طاعات (امامت ، مؤذنی تعلیم قرآن و غیره ) پر اخذ اجرت لینے کو جائز قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ مثلاً میت کے لئے ایصال ثواب کرنا یا رمضان میں تراویح میں قرآن سنانا ان پر اجرت لینا اب بھی جائز نہیں ، اس لیے کہ یہاں کوئی ضرورت اور مجبوری ہے نہیں ، اگر بغیر اجرت کے تراویح میں قرآن سنانے کے لیے کوئی حافظ میسر نہ ہو تو غیر حافظ بھی بغیر اخذ اجرت کے الم ترکیف کے ساتھ تراویح پڑھا سکتا ہے۔
لہذا تر اویح میں ختم قرآن پر اجرت مقرر کر لینا خواہ صراحت ہو جیسے بعض لوگ کرتے ہیں یا بطور عرف و عادت کے ہو جیسا کہ عموماً آج کل رائج ہے دونوں صورتوں میں دینا جائز نہیں۔ لیکن آج کل عموماً اس مسئلہ کے بارے میں اکثر لوگ غلطی فہمی میں مبتلا ہیں۔ اور بلا سوچے سمجھے بغیر کسی تحقیق کے اجرت تراویح کو جائز قرار دیتے ہیں۔ لہذا اس عمومی غلطی کے ازالہ کی نیت سے میں نے ارادہ کیا کہ اس مسئلہ کو اکابرین علمائے کرام کی کتابوں سے وضاحت کے ساتھ عرض کر دوں ۔ الحمد لله الله پاک نے توفیق عطاء فرمائی تو میں نے اس رسالہ کو ترتیب دی۔ اور اللہ جل جلالہ سے دعاء ہے کہ اس مختصر سی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے ۔ ( آمین )۔۔۔ مرتب

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *