باپ بیٹوں کے درمیان مشترکہ کاروبار اور اس کی مروجہ شکلیں یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں ابتلاء عام ہے اور یہ تقریباً ہر زراعت اور تجارت پیشہ گھرانوں کا مسئلہ بن گیا ہے لیکن اشتراکِ معاملات اور اس کے اصول وآداب سے ناواقفیت کی بنا پر اس کاروبار کی ایسی ایسی شکلیں باپ بیٹوں کے درمیان چل پڑی ہیں جن کے شرعی احکام معلوم نہ ہونے کی وجہ سے باپ اور اس کی اولاد کے درمیان اسی طرح بھائیوں میں آپس میں نزاع کی صورتیں پیش آنے لگتی ہیں اور یہ مقدس رشتے مخدوش ہوجاتے ہیں۔ اس مقالے میں شرح وبسط اور نہایت تحقیق و تدقیق کے ساتھ اس موضوع سے متعلق ہر سوال کا جواب، قدیم وجدید فقہی عبارات، اصول اور لغت کی کتابوں کے حوالجات اور حضرات اکابر دار العلوم دیوبند کے فتاوی کی روشنی میں بحث کی گئی ہے
Leave a Reply