Deeni Umoor par Ujrat Aur Taraweeh par Khidmat By Maulana Mujeeb ur Rahman دینی امور پر اجرت اور تروایح پڑھانے کی خدمت

 

Read Online

Deeni Umoor par Ujrat Aur Taraweeh par Khidmat By Maulana Mujeeb ur Rahman دینی امور پر اجرت اور تروایح پڑھانے کی خدمت

Download (1MB)

Link 1      Link 2

دینی امور پر اجرت اور تراویح پڑھانے کی خدمت
مؤلف: مولانا مجیب الرحمن

تراویح پڑھانے والے ، تراویح میں قرآن مجید سنانے والے حفاظ و قراء کرام کو مقتدیوں کی طرف سے جو ہدایا اور عطیات ملتے ہیں ان کے شرعی حکم سے متعلق بندہ کا موقف عرصہ سے نرم تھا، اُس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دیہاتوں میں سال کے اکثر دنوں اماموں کو نمازیوں کی طرف سے کچھ نہیں دیا جاتا، سال میں صرف ایک بار فصل پر اور پھر تراویح سنانے پر کچھ خدمت کر دی جاتی ہے، وہ بھی اُن پر احسان ڈال کر ، اور اس کی وجہ سے اماموں سے غلاموں کا سا سلوک ہوتا ہے ، نماز میں ذراسی دیر ہونے پر ان کو ڈانٹا جاتا ہے ، اور یوں سمجھا جاتا ہے کہ ان کو تو پیسہ کی ضرورت بھی نہیں، اور کئی تو یہاں تک سمجھتے اور کہتے ہیں کہ مولویوں کے پاس پیسہ آجائے تو یہ مست ہو جاتے ہیں، اس لئے ان کے پاس زیادہ پیسہ نہ ہونا چاہیئے، اس کے ساتھ اُس کے ذمہ کا کام نماز پڑھانا بھی ہے ، اذان دینا بھی ہے، مسجد کی خدمت اور صفائی بھی ہے ، صفیں بچھانا بھی ہے، بچوں کو بھی پڑھائے گا، میت کو غسل بھی دے گا، جب کہیں گے طلباء سمیت ختم بھی پڑھ دے گا، لیکن ہر ماہ تنخواہ نہیں ملے گی، فصل پر کچھ مقدار دی جائے گی جس کے لئے ایک ایک در اور گھر جائے گا، اور پھر تراویح کے ختم والے دن کچھ ملے گا، اب اگر کہہ دیں کہ تراویح پڑھانے پر کچھ دینا اور لینا حرام ہے ، تو اب یہ امام کدھر جائیں ؟ کہیں تراویح پڑھانے والے غریب طلباء ہوتے ہیں، جن کو تراویح پر کچھ ملتا ہے تو وہ کچھ وقت تک طلب علم آسانی سے کر لیتے ہیں۔
اکثر کتابیں اور فتاوی جو سامنے آتے تھے ، اُن میں تراویح پر کچھ لینے دینے کی ممانعت درج ہوتی تھی، تلاش کرنے سے اس بارے میں سب سے پہلے کچھ نرمی کا موقف جو بندہ کے سامنے آیا وہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا تھا، پھر حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی ایک عبارت بھی سامنے آئی، پھر چند مزید فتاوی بھی سامنے آئے، یہاں تک کہ حضرت مولانا مفتی محمد سلمان قاسمی صاحب دامت برکا تہم ( پالنپور) کا ایک سو چالیس صفحات پر مشتمل رسالہ ”اجرت تراویح اور خدمت امام “ سامنے آیا، تو دل میں کافی اطمینان و سکون کی کیفیت پیدا ہوئی۔
خیال ہوا کہ ایسے مختلف فتاویٰ اور حوالہ جات کو سامنے رکھ کر آسان انداز میں اس پر لکھا جائے، اسی مقصد کے لئے قلم کو حرکت دی، اللہ تعالی میرے لئے آسانی فرمائیں اور اس تحریر کو قبول خاص و عام فرمائیں آمین۔ مؤلف

 

  فیس بکی دوست باخبر رہنے کے لئے ہمارا فیس بک پیج فالوو کرسکتے ہیں۔ شکریہ۔

آپ کی رائے یا تبصرہ