Share this Book
Related Books
Response
-
সাঈদ আহমদ পালনপুরী রহমাতুল্লাহি আলাইহির এই مبا ديدات اصول কিতাবটি খুবই উপকারী আমার এই ফুল কিতাব লাগবে
Download (3MB)
مبادى الاصول
مع الحواشي المفيدة
التاليف: الشيخ سعيد أحمد البالن بوري
صفحات: ۵۷
طبع : ۱۴۳۱ھ / ۲۰۱۰
ناشر: مکتبۃ البشری کراچی
بين يدي الكتاب
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله الذي أراد بعباده اليسر، و لم يرد بهم العسر، والصلاة والسلام على من قال: إنما بعثتم ميسرين، ولم تبعثوا معسرين [رواه البخاري]
أما بعد: فقد يُدرس في المعاقل الإسلامية و المدارس العربية بادئ بدء “أصول الشاشي” في أصول الفقه، و هو كتاب ماتع نافع، لكن أسلوبه قديم، و أبحاثه منتشرة، و أمثلته متنوعة، فهو مرتفع عن مستوى الطلاب الوافدين إلى المدارس الدينية، فيقاسي المدرس في تدريسه مقاساة، فكان من الواجب أن يدرس قبله كتاب يسهل طريقه، و يقرب محتواه، و يمهد لمعناه فوضعت هذا الكتاب رجاء أن يملأ الفراغ۔
و مبادئ الشيء: قواعده الأساسية التي يقوم عليها، فهذا مبادئ الأصول، أي مبادئ أصول الشاشي، أي في طيه مضامينه الأساسية، و هو مبادئ الأصول الفقه كذلك، فقد يشتمل على مغزاها۔
واستفدت في ترتيبه من “أصول الشاشي” و تسهيله – للعالم النبيل محمد أنور البدخشاني – و”نور الأنوار” و “كشف الأسرار” شرح المصنف على المنار فالله يجزي أصحابها أحسن الجزاء، وتقبل هذا العمل المتواضع بفضله و منه و کرمه (آمین) وصلى الله على النبي الكريم، وعلى آله وأصحابه أجمعين۔ المؤلف
Related Books
সাঈদ আহমদ পালনপুরী রহমাতুল্লাহি আলাইহির এই مبا ديدات اصول কিতাবটি খুবই উপকারী আমার এই ফুল কিতাব লাগবে


یہ حضرات دوسروں کو قربانی کی ترغیب دیتے ہیں، فضائل سناتے ہیں، مسائل اور آداب سیکھاتے ہیں جبکہ خود اس عمل سے محروم رہتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کی ہر عید اس امید کے ساتھ آتی ہے کہ اس دفعہ قربانی کریں گے لیکن ہر دفعہ کی طرح یہ عید بھی یوں ہی گذر جاتی ہے تب یہ اور ان کے بچے ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے اگلی عید سے امید باندھ لیتے ہیں۔
ان کا عید کا دن، انتظار کا دن ہوتا ہے، رشتہ داروں، پڑوسیوں کا انتظار، دوستوں اور تعلق والوں کا انتظار۔
یہ لوگ عید کے دن گھر جائیں تو بچوں کے سامنے ٹوٹتے بنتے ہیں، باہر جائیں تو عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
یہ لوگ رب کی مرضی، تقدیر کے فیصلوں، معاشرے کے عدم توازن کو تو سمجھتے ہیں اور اس پر صابر رہتے ہیں لیکن ان کے ماتحت تو نہیں سمجھتے ہوں گے۔
کیا یہ اپنی محرومی، مایوسی، ہماری رویوں کو لیکر اپنے رب سے راز و نیاز نہیں کرتے ہوں گے؟۔
لہذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ جو لوگ پورا سال ہماری فکر کرتے ہیں ایسے موقع پر ہم ان کی فکر کریں۔ اپنے آس پاس ایسے لوگوں کو ڈھونڈیں اور ان کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔ اگر آپ کو رہنمائی چاہیے تو ہم سے رابطہ کریں۔
Leave a Reply