راولپنڈی - کراچی

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

Hayat e Abul Mahasin By Mufti Akhtar Imam Adil Qasmi حیات ابو المحاسن

Read Online

Hayat e Abul Mahasin By Mufti Akhtar Imam Adil Qasmi حیات ابو المحاسن

Download (15MB)

Link 1      Link 2

Download High Quality (34 MB)

حیات ابو المحاسن – محاسن التذكرة
مفکر اسلام حضرت علامہ مولانا ابو المحاسن سید محمد سجاد کے حالات و کمالات، امتیازات و خصوصیات، علمی، دینی، ملی، قومی و سیاسی خدمات، افکار و نظریات اور بہت سے علمی، فکری اور تاریخی مباحث پر مشتمل ایک تحقیقی دستاویزی مرق،ع کئی اداروں اور تحریکات کی مستند تاریخ اور مکمل سوانح حیات 

تالیف: مولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی
صفحات: ۸۱۰

سن اشاعت: ۲۰۱۹ء
ناشر: دائرة المعارف الربانيۃ جامعہ ربانی سمستی پور بہار

حضرت ابو المحاسن مولانا سید محمد سجاد برصغیر کی سوا سو سالہ تاریخ میں وہ واحد شخصیت ہیں جہاں علم وتقوی کے ساتھ گہرا سیاسی شعور ملتا ہے۔ جنہوں  نے ملت کے لئے اس ملک میں کئی نقوش چھوڑے۔ کئی تحریکات اور جماعتوں کے بانی ہیں۔ لیکن ہمیشہ اپنےکو عہدوں اور مناصب سےدور رکھا۔ اور خاموش قیادت کی وہ نظیر قائم کی جو تاریخ میں کمیاب نہیں نایاب ہے۔ جمعیة علماء ہند۔ امارت شرعیہ۔ دارالقضاء جیسی تحریکات اور اداروں کے آپ بانی ہیں۔ ان چیزوں کا اولین تصور آپ ہی نے پیش کیا۔ مگر یہ تاریخ کا حیرت انگیز المیہ ہے کہ ایسے مخلص قائد کو آہستہ آہستہ فراموش کردیا گیا۔ وقفہ وقفہ سے بعض مجموعہائے   مقالات ضرور شائع ہوئے۔ لیکن آپ کی باضابطہ سوانح وفات پر اسی سال گذر جانے کے بعد بھی نہیں آسکی۔ حضرت مولانا اختر امام عادل صاحب  نے اس قرض کو چکانے کی کوشش کی ہے۔ اور ایک مبسوط سوانح تیار کی ہے۔ کتاب کا رسم اجراء مونگیر بہار  کے مولانا محمد علی مونگیری انٹرنیشنل سیمینار میں ٨ دسمبر ٢٠١٩ء میں انجام دیا گیا۔ قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *