راولپنڈی - کراچی

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

Jamat e Mujahideen By Ghulam Rasool Mehar جماعت مجاہدین

Read Online

Jamat e Mujahideen - جماعت مجاہدین

Download (12MB)

Link 1      Link 2

جماعت مجاہدین
جماعت مجاہدین مجاہد کبیر سید احمد بریلوی کی جماعت کے تنظیمی حالات اور اکابر رفقاء کے سوانح حیات جو سید صاحب کی زندگی میں یا ان کے ساتھ شہید ہوئے یا جنہوں نے بعد ازاں جہاد میں کوئی حصہ نہ لیا۔

مصنف: مولانا غلام رسول مہر
صفحات: ۳۳۱
ناشر: کتاب منزل لاہور

پیش نظر کتاب دو حصوں میں منقسم ہے : پہلے حصے میں جماعت کی تنظیم و تربیت کے متعلق وہ تفصیلات مرتب صورت میں پیش کی گئی ہیں، جو آج تک کہیں جمع نہ ہو سکیں ۔ ہزاروں صفحات میں یہ معلومات جابجا بکھری پڑی تھیں۔ میں نے بار بار کے مطالعے اور غور و تحقیق سے انھیں جمع کیا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ان جواہر ریزوں کے چننے  میں کتنی مدت تک رات دن آنکھوں کا تیل ٹپکایا۔ الحمد للہ کہ ایک ایسا خاکہ تیار ہوگیا ، جسے پیش نظر رکھ لینے سے فکر و کاوش کی نئی وادیاں قطع کرنا نسبتاً سہل ہو جائے گا۔
دوسرے حصے میں سید صاحب کے ان مجاہدوں اور رفیقوں کے سوانح درج ہیں ، جو ان کی زندگی میں یا ان کے ساتھ جاں بحق ہونے یا جنہوں نے بعد ازاں مجاہدانہ سرگرمیوں میں کوئی حصہ نہ لیا یا جنہیں خود سید صاحب نے دعوت و تبلیغ پر متعین کر دیا تھا اور وہ انہیں مشاغل میں زندگی گزار کر مالک حقیقی سے جاملے۔ ان سوانح کی ترتیب و نگارش کا مقصد یہ تھا کہ ستید صاحب کی تربیت اور مردم گری کے کچھ عملی نمونے سامنے آجائیں تاکہ اندازہ ہو سکے، اس پاک نفس بزرگ نے تھوڑی سی مدت میں کیسی جماعت تیار کرلی تھی ۔ واضح رہے کہ سید صاحب کا ظهور اس تاریک دور میں ہوا جب اس ملک کے مسلمانوں کا سیاسی، دینی اور اخلاقی زوال آخری منزل پر پہنچا ہوا تھا۔ شوکت و سطوت کے اس مستحکم حصار کی بنیادیں منہدم ہو رہی تھیں، جس کی دیواروں کو سیسہ پلانے میں اسلامی ہند کے مایہ ناز تاجدار ، سالار اور مدبر سات صدیوں تک خون پسینہ ایک کرتے رہے تھے۔ سید صاحب نے مادی سر و سامان سے یکسر محرومی کے با وجود محض عشق حق کی حرارت سے اس ظلمت زار میں سیکڑوں ایسے چراغ روشن کر دیے ، جو اسلامیت کے درخشاں تریں دوروں کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ نیز خیال تھا کہ جن جانبازدان راہ حق نے احیائے اسلامیت کے لیے اپنا خون بے دریغ بہایا ، ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے ایک گراں بہا قومی و دینی میراث کی صورت میں محفوظ ہو جانی چاہیں۔

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

One comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *