علامہ لکھنوی کا رسالہ “تحفة النبلاء في جماعة النساء“ جس میں خواتین کی باجماعت نماز سے متعلق احادیث و آثار کو نقل کرنے کے بعد تمام تر روایات کی حیثیت متعین کی گئی ہے اور دیگر ائمہ متبوعین کی آراء کو نقل کرنے کے بعد فقہائے احناف اور متاخرین فقہاء کی آراء کو نقل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد احناف کے استدلال کے مختلف طریقہ کار کو بیان کر کے اس پر نقد کیا گیا ہے اور مطلقاً جواز کی طرف میلان ظاہر کیا گیا ہے۔ مولانا محمد شمس قمر صاحب نے اس کا ترجمہ ، احادیث اور فقہی عبارتوں کی تخریج ، اصل کتاب کے متون کا اندراج ، عناوین کا اندراج ، ماخذ کا تعارف ، تفہیم مسئلہ کے لیے ضمیمہ کا اضافہ کیا ہے جس میں مختلف اکابر علماء وفقہاء دیوبند کی آراء و فتاوی کو پیش کیا ہے
Leave a Reply