Share this Book
Related Books
Responses
-
HaywanatEQurani-Ka-Tasveeri-Album-Urdu books he?
-
Kitab maojood hai lekin scan nhi hoi. aglay chand dino me hojayegi. inshaAllah
-
Download (13MB)
تذکرہ اولیائے دیوبند
برصغیر پاک و ہند کے 87 معروف اولیائے دیوبند کے حالات و خدمات اور اوصاف و کمالات کا جامع تذکرہ
مصنف: حافظ سید محمد اکبر شاہ بخاری
صفحات: ۸۰۳
ناشر: مکتبہ رحمانیہ لاہور
اس کتاب میں اکابر و مشائخ اولیائے دیو بند کے حالات و کمالات کو نہایت احسن طریق پر مرتب کیا گیا ہے۔ شیخ المشائخ حضرت اقدس میانجی نور محمد جھنجھانوی قدس سرہ سے لے کر ۸۷ ممتاز علماء و مشائخ کا تذکرہ بڑی جامعیت اور خوش اسلوبی سے یکجا کتابی شکل میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔ شیخ العرب و العجم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، حضرت حافظ صاحب تھانوی شہید، حضرت مولانا مظفر حسین کاندھلوی ، حضرت حافظ محمد صدیق بھر چونڈوی، حضرت شیخ الہند، حضرت حکیم الامت تھانوی ، حضرت اقدس سہارنپوری ، حضرت مفتی اعظم مولانا عزیز الرحمن عثمانی ، حضرت میاں صاحب سید اصغر حسین دیوبندی ، حضرت محمد الیاس کاندھلوی، حضرت مولانا عبد القادر رائپوری ، حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری، حضرت مولانا تاج محمود امروٹی، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی، حضرت شیخ الاسلام علامہ ظفر احمد عثمانی ، مفتی اعظم حضرت اقدس مفتی محمد شفیع دیو بندی، حضرت مفتی محمد حسن صاحب ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری ، حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوری، حضرت مولانا خیر محمد جالندھری اور دیگر اولیاء اللہ کا تذکرہ اس کتاب میں شامل ہے اللہ تعالیٰ عزیز موصوف کی اس محنت و کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائیں اور دنیا و آخرت میں اس کی جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین
Related Books


یہ حضرات دوسروں کو قربانی کی ترغیب دیتے ہیں، فضائل سناتے ہیں، مسائل اور آداب سیکھاتے ہیں جبکہ خود اس عمل سے محروم رہتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کی ہر عید اس امید کے ساتھ آتی ہے کہ اس دفعہ قربانی کریں گے لیکن ہر دفعہ کی طرح یہ عید بھی یوں ہی گذر جاتی ہے تب یہ اور ان کے بچے ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے اگلی عید سے امید باندھ لیتے ہیں۔
ان کا عید کا دن، انتظار کا دن ہوتا ہے، رشتہ داروں، پڑوسیوں کا انتظار، دوستوں اور تعلق والوں کا انتظار۔
یہ لوگ عید کے دن گھر جائیں تو بچوں کے سامنے ٹوٹتے بنتے ہیں، باہر جائیں تو عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
یہ لوگ رب کی مرضی، تقدیر کے فیصلوں، معاشرے کے عدم توازن کو تو سمجھتے ہیں اور اس پر صابر رہتے ہیں لیکن ان کے ماتحت تو نہیں سمجھتے ہوں گے۔
کیا یہ اپنی محرومی، مایوسی، ہماری رویوں کو لیکر اپنے رب سے راز و نیاز نہیں کرتے ہوں گے؟۔
لہذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ جو لوگ پورا سال ہماری فکر کرتے ہیں ایسے موقع پر ہم ان کی فکر کریں۔ اپنے آس پاس ایسے لوگوں کو ڈھونڈیں اور ان کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔ اگر آپ کو رہنمائی چاہیے تو ہم سے رابطہ کریں۔
Leave a Reply