معاصر دور میں جب سلفی فکر ایک نمایاں فکری شناخت کے طور پر سامنے آئی تو اس کے مصادر و مراجع میں ابن تیمیہ کی تحریروں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوئی ۔ اس نسبت نے ان کی فکر کو نئے تناظر میں پیش کیا، بعض مواقع پر وسعت دی اور بعض مواقع پر مخصوص زاویے سے تعبیر کیا۔ چنانچہ یہ سوال تحقیق کا طالب ہے کہ اصل ابن تیمیہ کی فکر کیا تھی؟ ان کے فقہی تفردات کی علمی حیثیت کیا ہے؟ ائمہ اربعہ کے مقابل ان کا مقام کس درجہ کا ہے؟ اور معاصر سلفی تعبیر ان کی فکر کی نمائندہ ہے یا ایک خاص قرائت؟ یہ کتاب انہی سوالات کا منصفانہ اور تحقیقی جائزہ پیش کر رہی ہے۔
Leave a Reply