منتخب موضوع
Share this Book
Related Books
Responses
-
Its very nice and beautiful book every body must read this
-
JazakAllahu khera
-
Alfiytul hadees ki sharh uplod karden

Download (6MB)
لطائف علمیہ اردو ترجمہ کتاب الاذکیا
مصنف: امام ابن جوزی
ترجمہ: مولانا اشتیاق احمد
صفحات: ۳۶۲
ناشر: اسلامی کتب خانہ لاہور
اس کتاب میں علامہ ابن جوزی نے ذکاوت و ذہانت کے مختلف الانواع نمونے پیش فرمائے ہیں اور انبیاء ؑ سے لے کر اولیاء، عرفاء، علماء، صلحاء، ادباء، شعراء، رؤسا، ارباب صنعت و حرفت، قضاة، والیان ملک، عوام حتی کہ بد وضع طبقات تک کے مزاح و خوش طبعی اور ذکاوت کے مقالات اور معاملات کے نمونے ابواب و فصول پر منقسم کر کے یکجا کر دیے ہیں ۔ جن سے مختلف اہل کمال کی رسا عقلوں، ذہانتوں، طباعیوں اور زندہ دلی کے جوہر نمایاں ہوتے ہیں اور عقلوں کو مختلف معنوی راہوں میں گھومنے پھرنے کی راہیں ملتی ہیں۔ یہ کتاب فی الحقیقت تاریخ بھی ہے۔ مردہ دلوں اور یژمردہ طبیعتوں کے لیے روح افزا طب بھی ہے اور کند عقلوں کی غباوۃ دور کرنے کے لیے ایک اکسیر علاج بھی ہے جس سے مردہ عقل میں تیزی اور اُمنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ آدمی ہنستا بھی ہے اور عبرت بھی پکڑتا ہے۔ پابند منفرح بھی ہوتا ہے اور سوچتا بھی ہے اور اس طرح ایک زنده طبیعت لے کر اعلیٰ مقاصد کے لیے دوڑتا بھی ہے۔ پس ابن جوزی نے کتاب الاذکیا لکھ کر دل لگی نہیں کی بلکہ دل کی لگی کا سامان کیا ہے۔ انہوں نے مزاحی حکایات لکھ کر کسی بدعت کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ سنن صالحین کو یکجا کیا اور اسوۂ حسنہ کی ضروری تفصیلات جمع کی ہیں جو بدعت نہیں تقویت سنت ہے۔۔۔۔ قاری محمد طیب رح
Related Books


یہ حضرات دوسروں کو قربانی کی ترغیب دیتے ہیں، فضائل سناتے ہیں، مسائل اور آداب سیکھاتے ہیں جبکہ خود اس عمل سے محروم رہتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کی ہر عید اس امید کے ساتھ آتی ہے کہ اس دفعہ قربانی کریں گے لیکن ہر دفعہ کی طرح یہ عید بھی یوں ہی گذر جاتی ہے تب یہ اور ان کے بچے ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے اگلی عید سے امید باندھ لیتے ہیں۔
ان کا عید کا دن، انتظار کا دن ہوتا ہے، رشتہ داروں، پڑوسیوں کا انتظار، دوستوں اور تعلق والوں کا انتظار۔
یہ لوگ عید کے دن گھر جائیں تو بچوں کے سامنے ٹوٹتے بنتے ہیں، باہر جائیں تو عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
یہ لوگ رب کی مرضی، تقدیر کے فیصلوں، معاشرے کے عدم توازن کو تو سمجھتے ہیں اور صابر رہتے ہیں لیکن ان کے ماتحت تو نہیں سمجھتے ہوں گے۔
کیا یہ اپنی محرومی، مایوسی، ہماری رویوں کو لیکر اپنے رب سے راز و نیاز نہیں کرتے ہوں گے؟۔
لہذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ جو لوگ پورا سال ہماری فکر کرتے ہیں ایسے موقع پر ہم ان کی فکر کریں۔ اپنے آس پاس ایسے لوگوں کو ڈھونڈیں اور ان کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔ اگر آپ کو رہنمائی چاہیے تو ہم سے رابطہ کریں۔
Leave a Reply