راولپنڈی - کراچی

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر اہلِ علم و دانش بے چین و مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور فکری آبیاری کے لیے عملاً کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شخصیت سازی کے اسلوب سے عدم واقفیت کی وجہ سے مؤثر دینی کام نہیں کر پاتے۔ عملی میدان میں پیش آمدہ مشکلات کے باعث انہیں ایک ایسے مربی کی تلاش ہوتی ہے جو عملی کام کے تقاضوں اور اسالیب سے آگاہ کرے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت دینی کام میں لگا دے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر عملی کام کا تجربہ رکھنے والے علماء و فضلاء کے لیے یہ مختصر کورس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ انہیں دورِ حاضر کے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے اور مؤثر دینی خدمت کا طرز سکھایا جائے، تاکہ وہ اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نافع و مؤثر بنا سکیں۔

رجسٹریشن و تفصیلات
albn.org/ulama

Lataif e Ilmia By Allama Ibnul Jawzi لطائف علمیہ/ کتاب الاذکیا

Read Online

Lataif e Ilmia By Allama Ibnul Jawzi لطائف علمیہ/ کتاب الاذکیاء

Download (6MB)

Link 1     Link 2

لطائف علمیہ اردو ترجمہ  کتاب الاذکیا
مصنف: امام ابن جوزی
ترجمہ: مولانا اشتیاق احمد
صفحات: ۳۶۲
ناشر: اسلامی کتب خانہ لاہور

اس کتاب میں علامہ ابن جوزی نے ذکاوت و ذہانت کے مختلف الانواع نمونے پیش فرمائے ہیں اور انبیاء ؑ سے لے کر اولیاء، عرفاء، علماء، صلحاء، ادباء، شعراء، رؤسا، ارباب صنعت و حرفت، قضاة، والیان ملک، عوام حتی کہ بد وضع طبقات تک کے مزاح و خوش طبعی اور ذکاوت کے مقالات اور معاملات کے نمونے ابواب و فصول پر منقسم کر کے یکجا کر دیے ہیں ۔ جن سے مختلف اہل کمال کی رسا عقلوں، ذہانتوں، طباعیوں اور زندہ دلی کے جوہر نمایاں ہوتے ہیں اور عقلوں کو مختلف معنوی راہوں میں گھومنے پھرنے کی راہیں ملتی ہیں۔ یہ کتاب فی الحقیقت تاریخ بھی ہے۔ مردہ دلوں اور یژمردہ طبیعتوں کے لیے روح افزا طب بھی ہے اور کند عقلوں کی غباوۃ دور کرنے کے لیے ایک اکسیر علاج بھی ہے جس سے مردہ عقل میں تیزی اور اُمنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ آدمی ہنستا بھی ہے اور عبرت بھی پکڑتا ہے۔ پابند منفرح بھی ہوتا ہے اور سوچتا بھی ہے اور اس طرح ایک زنده طبیعت لے کر اعلیٰ مقاصد کے لیے دوڑتا بھی ہے۔ پس ابن جوزی نے کتاب الاذکیا لکھ کر دل لگی نہیں کی بلکہ دل کی لگی کا سامان کیا ہے۔ انہوں نے مزاحی حکایات لکھ کر کسی بدعت کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ سنن صالحین کو یکجا کیا اور اسوۂ حسنہ کی ضروری تفصیلات جمع کی ہیں جو بدعت نہیں تقویت سنت ہے۔۔۔۔ قاری محمد طیب رح

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

Sponsored by

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *